جب پاکستان دہشتگردی کا شکار تھا تو بلاول چیخ چیخ کر طالبان کو للکارتا تھا۔باقی سب بڑے بڑے سیاستدان لفظ "مذمت" سے آگے نہیں بڑھتے تھے ۔ یہ بلاول ہی تھا جو بار بار طالبان کے خلاف فوجی کاروائی کا مطالبہ کرتاتھا اور اس وقت کی پاکستان مسلم لیگ کی حکومت اور سیکیورٹی ادارے طالبان سے مزاکرات کرنے کے حامی تھےلیکن پشاور اے پی ایس کے معصوم بچوں کی قربانی سمیت ہزاروں جانیں گنوانے کے بعد ریاست نے بالآخر دہشتگردوں کے آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا۔متفقہ طور ایک نیشنل ایکشن پلان ترتیب دیا گیا۔لیکن بلاول تو بہت پہلے کہہ رہے تھے۔ ریاست کے بڑے تو یہی کہتے تھے بلاول بچہ ہے اس کو کیا پتا لیکن شاید انکو یہ معلوم نہیں تھا کہ اس بلاول کا تعلق جس درسگاہ سے ہے اسے دنیا مانتی ہے۔
سبسکرائب کریں در:
تبصرے شائع کریں (Atom)

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں